peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Text page


a---------sirat-un-nabi.s.a.w.peperonity.net

ایمانِ والدین کریمین


ایمانِ والدین کریمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم:۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کریمین کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ وہ دونوں مؤمن ہیں یا نہیں؟ بعض علماء ان دونوں کو مؤمن نہیں مانتے اور بعض علماء نے اس مسئلہ میں توقف کیا اور فرمایا کہ ان دونوں کو مؤمن یا کافر کہنے سے زبان کو روکنا چاہیے اور اس کا علم خدا کے سپرد کر دینا چاہیے، مگر اہل سنت کے علماء محققین مثلاً امام جلال الدین سیوطی و علامہ ابن حجر ہیتمی و امام قرطبی و حافظ الشام ابن ناصر الدین و حافظ شمس الدین دمشقی و قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی و شیخ عبدالحق محدث دہلوی و صاحب الاکلیل مولانا عبدالحق مہاجر مدنی وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہی عقیدہ اور قول ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ماں باپ دونوں یقینا بلا شبہ مؤمن ہیں۔ چنانچہ اس بار ے میں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشاد ہے کہ
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین کو مؤمن نہ ماننا یہ علماء متقدمین کا مسلک ہے لیکن علماء متأخرین نے تحقیق کے ساتھ اس مسئلہ کو ثابت کیا ہےکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما بلکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام آباء و اجداد حضرت آدم علیہ السلام تک سب کے سب ’’ مؤمن ‘‘ ہیں اور انحضرات کے ایمان کو ثابت کرنےمیں علماء متأخرین کے تین طریقے ہیں:

اول یہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والدین اور آباء و اجداد سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تھے، لہٰذا ’’ مؤمن ‘‘ ہوئے۔
دوم یہ کہ یہ تمام حضرات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اعلان نبوت سے پہلے ہی ایسے زمانے میں وفات پا گئے جو زمانہ ’’ فترت ‘‘ کہلاتا ہے اور ان لوگوں تک حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی دعوتِ ایمان پہنچی ہی نہیں لہٰذا ہر گز ہر گز ان حضرات کوکافر نہیں کہا جا سکتا بلکہ ان لوگوں کو مؤمن ہی کہا جائے گا۔
سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو زندہ فرما کر ان کی قبروں سے اٹھایا اور ان لوگوں نے کلمہ پڑھ کرحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصدیق کی اور حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کے والدین کو زندہ کرنےکی حدیث اگرچہ بذات خود ضعیف ہے مگر اس کی سندیں اس قدر کثیر ہیں کہ یہ حدیث’’صحیح‘‘ اور ’’حسن‘‘ کے درجے کو پہنچ گئی ہے۔

اور یہ وہ علم ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.