peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Text page


a---------sirat-un-nabi.s.a.w.peperonity.net

سفر شام اور بُحیریٰ راہب

سفر شام اور بحیرٰی راہب:۔

جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عمر شریف بارہ برس کی ہوئی تو اس وقت حضرت ابو طالب نے تجارت کی غرض سے ملک شام کا سفر کیا۔
حضرت ابو طالب کو چونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے بہت ہی والہانہ محبت تھی اس لیے وہ آپ کو بھی اس سفر میں اپنے ہمراہ لے گئے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت سے قبل تین بار تجارتی سفر فرمایا۔ دو مرتبہ ملک شام گئے اور ایک بار یمن تشریف لے گئے، یہ ملک شام کا پہلا سفر ہے اس سفر کے دوران ” بُصریٰ ” میں ” بُحیریٰ ” راہب (عیسائی سادھو) کے پاس آپ کا قیام ہوا۔
اس نے توراۃ و انجیل میں بیان کی ہوئی نبی آخر الزماں کی نشانیوں سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ اس نے آپ کے قافلہ والوں کی دعوت کی اور حضرت ابو طالب سےکہا کہ یہ سارے جہان کے سردار اور رب العالمین کے رسول ہیں، جن کو اللہ رب العزت نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ شجر و حجر ان کو سجدہ کرتے ہیں اور ابر ان پر سایہ کرتا ہے اور ان کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے۔
اس لئے تمہارے اور ان کے حق میں یہی بہتر ہوگا کہ اب تم ان کو لے کر آگے نہ جاؤ اور اپنا مال تجارت یہیں فروخت کرکے بہت جلد مکہ چلے جاؤ۔ کیونکہ ملک شام میں یہودی لوگ ان کے بہت بڑے دشمن ہیں۔ وہاںپہنچتے ہی وہ لوگ ان کو شہیدکر ڈالیں گے۔ بحیرٰی راہب کےکہنے پر حضرت ابو طالب کو خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ انہوں نے وہیں اپنی تجارت کا مال فروخت کر دیا اور بہت جلد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ واپس آ گئے۔
بُحیریٰ راہب نے چلتے وقت انتہائی عقیدت کے ساتھ آپ کو سفر کا کچھ توشہ بھی دیا۔

(ترمذی ج۲ باب ماجاء فی بدء نبوة النبی صلی الله تعالیٰ عليه وسلم)


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.