peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Text page


a---------sirat-un-nabi.s.a.w.peperonity.net

اعلان نبوت سے پہلے کے حالات

اعلان نبوت سے پہلے کے حالات

جنگِ فجار:۔

اسلام سے پہلے عربوں میں لڑائیوں کا ایک طویل سلسلہ جاری تھا۔ انہی لڑائیوں میں سے ایک مشہور لڑائی “جنگ فجار” کے نام سے مشہور ہے۔ عرب کے لوگ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب، ان چار مہینوں کا بے حد احترام کرتے تھے اور ان مہینوں میں لڑائی کرنے کو گناہ جانتے تھے۔ یہاں تک کہ عام طور پر ان مہینوں میں لوگ تلواروں کو نیام میں رکھ دیتے۔ اور نیزوں کی برچھیاں اتار لیتے تھے۔ مگر اس کے باوجود کبھی کبھی کچھ ایسے ہنگامی حالات درپیش ہو گئے کہ مجبوراً ان مہینوں میں بھی لڑائیاں کرنی پڑیں۔ تو ان لڑائیوں کو اہل عرب “حروب فجار” )گناہ کی لڑائیاں( کہتے تھے۔
سب سے آخری جنگ فجار جو “قریش” اور “قیس” کے قبیلوں کے درمیان ہوئی اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف بیس برس کی تھی۔ چونکہ قریش اس جنگ میںحق پر تھے، اس لئے ابو طالب وغیرہ اپنے چچاوں کے ساتھ آپ نے بھی اس جنگ میں شرکت فرمائی۔ مگر کسی پر ہتھیار نہیں اٹھایا۔ صرف اتنا ہی کیا کہ اپنے چچاوں کو تیر اٹھا اٹھا کر دیتے رہے۔ اس لڑائی میں پہلے قیس پھر قریش غالب آئے اور آخر کار صلح پر اس لڑائی کا خاتمہ ہو گیا-
‎(سيرت ابن هشام ج۲ ص۱۸۶)

حلف الفُضول:۔

روز روز کی لڑائیوں سے عرب کے سیکڑوں گھرانے برباد ہوگئے تھے۔ ہر طرف بدامنی اور آئے دن کی لوٹ مار سے ملک کا امن و امان غارت ہو چکا تھا۔ کوئی شخص اپنی جان و مال کو محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔ نہ دن کو چین، نہ رات کوآرام، اس وحشت ناک صورتِ حال سے تنگ آکر کچھ صلح پسند لوگوں نے جنگ فجار کے خاتمہ کے بعد ایک اصلاحی تحریک چلائی۔
چنانچہ بنو ہاشم، بنو زہرہ، بنو اسد وغیرہ قبائل قریش کے بڑے بڑے سرداران عبداللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زبیر بن عبدالمطلب نے یہ تجویز پیش کی کہ موجودہ حالات کو سدھارنے کے لئے کوئی معاہدہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ خاندان قریش کے سرداروں نے ” بقائے باہم ” کے اصول پر ” جیو اور جینے دو ” کے قسم کا ایک معاہدہ کیا اور حلف اٹھا کر عہد کیا کہ:
ہم لوگ مسافروں کی حفاظت کریں گے۔
ملک سے بے امنی دور کریںگے۔
مظلوم کی حمایت کریں گے۔
غریبوں کی امداد کرتے رہیں گے۔
کسی ظالم یا غاصب کو مکہ میں نہیں رہنے دیں گے۔


اس معاہدہ میں حضور اقدس صلی اللہ ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.