peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Text page


a---------sirat-un-nabi.s.a.w.peperonity.net

کعبہ کی تعمیر

کعبہ کی تعمیر :۔

آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی راست بازی اور امانت و دیانت کی بدولت اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس قدر مقبولِ خلائق بنا دیا اور عقلِ سلیم اور بےمثال دانائی کا ایسا عظیم جوہر عطا فرما دیا کہ کم عمری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے بڑے بڑے سرداروں کے جھگڑوں کا ایسا لاجواب فیصلہ فرما دیا کہ بڑے بڑے دانشوروں اور سرداروں نے اس فیصلہ کی عظمت کے آگے سر جھکا دیا، اور سب نے بالاتفاق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حکم اور سردارِ اعظم تسلیم کر لیا۔

چنانچہ اس قسم کا ایک واقعہ تعمیر کعبہ کے وقت پیش آیا جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس برس کی ہوئی تو زور دار بارش سے حرم کعبہ میں ایسا عظیم سیلاب آ گیا کہ کعبہ کی عمارت بالکل ہی منہدم ہو گئی۔
حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل علیہم السلام کا بنایا ہوا کعبہ بہت پرانا ہو چکا تھا۔ عمالقہ، قبیلۂ جرہم اور قصی وغیرہ اپنے اپنے وقتوں میں اس کعبہ کی تعمیر و مرمت کرتے رہے تھے مگر چونکہ عمارت نشیب میں تھی اس لئے پہاڑوں سے برساتی پانی کے بہاؤ کا زور دار دھارا وادیٔ مکہ میں ہو کر گزرتاتھا اور اکثر حرم کعبہ میں سیلاب آ جاتا تھا۔
کعبہ کی حفاظت کے لیے بالائی حصہ میں قریش نے کئی بند بھی بنائے تھے مگر وہ بند بار بار ٹوٹ جاتے تھے۔ اس لیے قریش نے یہ طے کیا کہ عمارت کو ڈھا کر پھر سے کعبہ کی ایک مضبوط عمارت بنائی جائے جس کا دروازہ بلند ہو اور چھت بھی ہو۔ چنانچہ قریش نے مل جل کر تعمیر کا کام شروع کر دیا۔اس تعمیر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہوئے اور سردار ان قریش کے دوش بدوش پتھراٹھا اٹھا کر لاتے رہے مختلف قبیلوں نے تعمیر کے لیے مختلف حصے آپس میں تقسیم کر لئے۔ جب عمارت ’’ حجر اسود ‘‘ تک پہنچ گئی تو قبائل میں سخت جھگڑا کھڑا ہو گیا۔ ہر قبیلہ یہی چاہتا تھا کہ ہم ہی ’’ حجراسود ‘‘ کو اٹھا کر دیوارمیں نصب کریں۔ تا کہ ہمارے قبیلہ کے لئے یہ فخر و اعزاز کا باعث بن جائے۔
اس کشمکش میں چار دن گزر گئے یہاں تک نوبت پہنچی کہ تلواریں نکل آئیں بنو عبدالدار اور بنو عدی کے قبیلوں نے تو اس پر جان کی بازی لگا دی اور زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق اپنی قسموں کو مضبوط کرنے کے لئے ایک پیالہ میں خون بھر کر اپنی انگلیاں اس میں ڈبو کر چاٹ لیں۔ پانچویں دن حرم کعبہ میں تمام ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.