peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


arzi - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.peperonity.net

✷ عرضی ✷

★ اردو ادب ★


بشیر کے باپ نے اس کی ساری کتابیں پھاڑ دیں۔ اسے خوب مارا۔ پھر کمرے میں بند کر دیا۔ وہ درد سے بڑی دیر تک روتا رہا۔ ماں دروازے کے باہر کھڑی اسے سمجھاتی رہی۔ ماں تھی، اسے مار پڑتی دیکھ کر بے چین ہو گئی۔ اگر وہ باپ کی بات مان لیتا تو مار نہ پڑتی۔ ’’ضد نہ کر پتر‘ اباٹھیک کہتا ہے۔ میرا بچہ! باپ کا کہنا مان لے۔ پھر میں تجھے باہر نکالوں گی… دیکھ تیرے لیے پراٹھا پکایا ہے۔‘‘
پراٹھے کا نام سن کر گھنٹوں سے بھوکے بشیر کی ضد کمزور پڑ گئی۔ اسے لگا‘ شاید ابا ٹھیک ہی کہتا ہے۔ ضد کا کیا فائدہ؟ پراٹھا تو کھائے نکل کے۔ ’’اچھا بے بے! کھول دروازہ۔‘‘
ماں نے جلدی سے دروازہ کھول کر اسے لپٹا لیا۔ اپنی چادر سے اس کا منہ اور ناک صاف کیے۔ پیشانی سے بال ہٹا کر چوما اور کہا ’’پتر! ضد نہیں کرتے باپ کے ساتھ ، آ میرا سوہنا۔‘‘
ماں نے واقعی پراٹھا پکا کر رکھا ہوا تھا۔ اس نے جلدی سے کٹوری میں گھی گرم کر کے شکر ڈالی اور بشیر کے سامنے رکھ دی۔ ’’حلوہ بنا دوں ساتھ؟‘‘
بیٹے نے اثبات میں سر ہلایا۔ ماں جلدی جلدی حلوے کے لیے ضروری چیزیں اکٹھی کرنے لگی۔ وہ شکر کے ساتھ پراٹھا کھاتارہا لیکن ابا کی بات مان کر بڑا ہی اداس تھا۔
اسے اپنے اسکول سے بڑا پیار تھا۔ وہ صبح سویرے شوق سے اٹھ کر تیار ہوتا۔ بھاگا بھاگا اسکول جاتا۔ وہ شروع سے جماعت میں اوّل آ رہا تھا۔ ماسٹر سے اسے روز شاباش ملتی۔ تب اسے بڑا مزہ آتا۔ ماسٹر نے اسے مانیٹر بنا دیا تھا۔ اکثر گرمیوں کی دوپہروں میں ماسٹر صاحب کو نیند آنے لگتی تو بشیر کو سبق سمجھا کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو جاتے۔ بشیر جماعت کے سامنے کھڑا لڑکوں کو پہاڑے یاد کراتا یا کوئی دوسرا سبق یاد کرا دیتا۔ وہ آگے آگے بولتا، لڑکے پیچھے پیچھے زور زور سے دہراتے۔
یہ آوازیں لوری کا کام دیتیں اور ماسٹر صاحب آہستہ آہستہ میٹھی نیند میں کھو جاتے۔ ٹوپی ان کی ناک پر سرک آتی۔ بشیر خاص خیال رکھتا کہ جماعت میں بے ہنگم شور نہ ہو تاکہ ماسٹر صاحب سکون سے محو خواب رہیں۔ بشیر کو ان سب باتوں میں بڑامزہ آتا۔ اسی لیے وہ پوری شام سبق یاد کرتا۔ اگلے دن باقی بچے اٹک رہے ہوتے بلکہ کئی تو پڑھ بھی نہ پاتے اور بشیر فر فر سبق سنا دیتا۔ پھر آدھی چھٹی کے وقت کھیلوں میں کتنا مزہ آتا تھا۔ وہ کھیلوں میںبھی دوسرے لڑکوں کا نمبر کاٹتا اور ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.