peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


badawa - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.peperonity.net

☆ بڈاوا ☆

♠ اردو ادب ♠

ابا مجھے بات بے بات مارتا تھا۔ وہ کہا کرتا کہ اولاد کو دو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی آنکھ سے۔ وہ اس ضرب المثل کے آدھے حصے پر عمل کیا کرتا۔ بغیر سونے کا نوالہ کھلائے مجھے ہر وقت شیر کی نظروں سے دیکھا کرتا۔ اگر میں سو رہا ہوتا تو دھپ مار کر جگاتا۔ جاگ رہا ہوتا تو گُدی پر ہاتھ رکھ کر سونے کو کہتا۔ گھر میں ہوتا تو باہر جاکر کھیلنے کا حکم دیتا۔ کھیلتے ہوئے دیکھ لیتا تو دَبکا مار کر گھر چلنے کو کہتا۔ میں پڑھ رہا ہوتا تو اُسے غصہ آجاتا کہ میں ہر وقت
کتابوں میں منہ گھسائے بیٹھا رہتا ہوں۔ وہ میرے اس فعل کو کام چوری سے تعبیر کرتا اور کہا کرتا کہ میں ایسے پڑھائی کرتا ہوں جیسے مجھے سچ مچ ہی افسر مال بننا ہے۔ ازراہِ مذاق یا طنزاً وہ مجھے افسر مال کہہ کر پکارا کرتا۔ اگر فارغ دیکھ لیتا تو لال پیلا ہو جاتا اور ڈانٹنے لگتا کہ میں خوامخواہ کتابوں اور فیسوں پر پیسا برباد کر رہا ہوں۔ میں ہنستا تو مارتا کہ دانت کیوں نکال رہا تھا۔ سنجیدہ ہوتا تو عذر ہوتا کہ ہر وقت بُوتھا سُوجا ہوا رہتا ہے۔ رنجیدہ ہوتا تو کہتا ’’اوئے! تیری ماں مر گئی ہے؟ کیوں رو رہے ہو؟‘‘ مجھے حسرت ہی رہی کہ کبھی وہ کہے ’’اوئے تیرا باپ مر گیا ہے؟‘‘ تو میں دل ہی دل میں ’’آمین‘‘ کہوں۔
رو رو کر میری صورت ہی رونی سی بن گئی تھی۔ اسکول میں اساتذہ اور لڑکے مجھے اکثر ’’رونی شکل‘‘ کہہ کر پکارتے۔ اگر کسی وقت میری صورت ذرا زیادہ ہی رونی سی ہو جاتی تو ابا ہاتھ میں چھڑی لے کر کہتا ’’ٹھہر میں تجھے صحیح طرح سے رُلائوں۔‘‘ میں اُسے خوش کرنے کے لیے اپنے چہرے پر مُسکراہٹ طاری کر لیتا تو وہ کہتا ’’اوئے! یہ منہ کیسے بنا رکھا ہے باندری (بندریا) کی طرح؟‘‘ غرض یہ، کوئی ضروری نہیں تھا کہ اپنے باپ سے پٹنے کے لیے میں کوئی غلطی بھی کروں۔ باپ ہونے کے ناتے وہ یہ اپنا حق سمجھتا تھا کہ مجھے حیلے بہانے سے جب چاہے،جتنا چاہے، مارے۔ یعنی وہ اپنے اس خداداد استحقاق سے دست بردار ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھ سے کوئی قصور سرزد نہ ہو اور وہ مجھے مارے بھی نہیں۔
ایک دفعہ رمضان المبارک کے دوسرے ہی روز ہماری مسجد کے مولوی صاحب سے ابا کا جھگڑا ہو گیا۔ ابا کہتا تھا کہ ابھی میں سحری کھا رہا تھا تو مولوی نے جان بوجھ کر جلد بازی میں اذان دے دی۔ مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ وہ خدا کا غلام ہے، کسی بندے ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.