peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


dhund - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.peperonity.net

╰☆╮ دھند ╰☆╮

▶ جرم و سزا ◀

میں نے کمبل اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا‘ مگر سردی تھی کہ ہڈیوں میں اترتی چلی گئی۔ ’’نواز! یہ آتش دان میں لکڑیاں ڈال دو‘ سردی لگ رہی ہے۔‘‘ میں نے اپنے ملازم کو آواز دی۔ ’’ابھی ڈال دیتا ہوں جی۔‘‘ چند ہی لمحوں میں نواز سوکھی لکڑیاں اُٹھائے کمرے میں آ گیا۔ ’’ڈاکٹر صاحب باہر برف باری شروع ہو چکی۔‘‘ اس نے لکڑیوں کو آگ لگاتے ہوئے بتایا ۔

’’اچھا نواز تمھیں یہاں آئے چھے سات ماہ ہو چکے۔ پچھلے دو ماہ سے یہاں سردی ہے۔ خوب برف باری بھی ہو رہی ہے‘ مگر تم آج بھی برف پڑنے پر یوں پُرجوش ہو جاتے ہو جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہو۔‘‘ میں نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

’’بس ڈاکٹر صاحب ہم ٹھہرے صحرائے تھر کے باسی۔ بیس سال صحرا میں گزارے۔ تاحد نگاہ ریت کے ٹیلے‘ آگ برساتا آسمان اور پیاسی ریتلی زمین۔ اتنی جلد بھلا کیسے عادی ہو جائیں اس الف لیلوی جگہ کے!‘‘ نواز نے اُٹھتے ہوئے کہا ’’پر ڈاکٹر صاحب ایک بات ضرور ہے۔

ہم تو ٹھہرے پردیسی آدمی ‘ لیکن آپ تو یہیں پیدا ہوئے اور ملازمت بھی یہیں قریبی قصبے میں کرتے ہیں۔ یہ موسم آپ کے لیے تو اجنبی نہیں۔ مگر میںنے اکثر دیکھا ہے‘ ایسے برفیلے موسم میں آپ کچھ سوچتے رہتے ہیں۔ آپ کے کمرے کی بتی بھی جلتی رہتی ہے۔
’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ وہ واقعہ ہی کچھ ایسا تھا کہ کئی سال گزرنے کے باوجود میرے ذہن میں تازہ ہے۔ جب بھی اس طرح کا موسم آئے‘ میری آنکھوں کے سامنے وہ تمام واقعات گھومنے لگتے ہیں۔‘‘ میں نے پُرخیال لہجے میں کہا۔
’’ڈاکٹر صاحب‘ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں وہ واقعہ سننا چاہوں گا۔‘‘ نواز نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’اچھا چلو ٹھیک ہے‘ آج ان یادوں کے سفر پر تنہا میں نہیں، بلکہ ہم دونوں چلتے ہیں۔‘‘ میں نے آتش دان پر نظر جماتے ہوئے کہا۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب قصبے کے اسپتال میں بطور نیورو سرجن مجھے تعینات ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ سردیوں کی ایسی ہی ایک برفیلی اور تاریک رات میں فون کی بجتی گھنٹی مجھے خوابوں کی دنیا سے باہر کھینچ لائی۔ میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف لائن پر ڈاکٹر رمیض تھے۔ میرے چونگا (ریسیور) اٹھاتے ہی وہ تیزی سے بولے:

’’ڈاکٹر شیراز! معاف کیجیے‘ میں نے آپ کو اتنی رات گئے بے آرام کیا مگر کیا کروں‘ ایک ہنگامی صورت حال آ ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.