peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


mout ka saafar - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.peperonity.net

✽ موت کا سفر ✽

《 خاص خاص 》

یہ ستمبر ۲۰۱۱ء کی سرد صبح تھی جب ۷۵ مسافر ٹیولیف ٹی یو۔۱۵۴ نامی مسافر بردار روسی ہوائی جہاز پر سوار ہوئے۔ جہاز نے شمال مغرب روس میں واقع شہر، پولیارن سے ماسکو جانا تھا۔ یہ تقریباً ۵ گھنٹے کی پرواز تھی۔ سٹاسلیف اور اس کی بیگم اکترینا بیشتر مسافروں کے مانند مہینے میں دو تین بار پولیارن سے ماسکو جاتے آتے تھے۔ اسی لیے اب جوڑا پورے عملہ ہوائی جہاز کے ناموں سے واقف ہو چکا تھا۔

۳۰ سالہ سٹاسلیف اگرچہ ہوائی سفر سے خاصا خوف کھاتا تھا۔ مگر ماسکو دور ہونے کے باعث اسے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑتا۔ دلچسپ بات یہ کہ جب وہ سفر کرنے لگتا، یہ جملہ اس کی زبان پہ ہوتا ’’اس بار ہوائی جہاز ضرور گر پڑے گا۔‘‘ اس کی بیوی ۲۸ سالہ اکترینا ہمیشہ اسے ڈھارس دیتی ’’اگر ہمارے جہاز کی قسمت میں گرنا لکھا ہے تو وہ گر جائے گا۔اگر نہیں لکھا تو وہ کبھی نہیں گرے گا۔‘‘ لیکن بیوی کی تسلی شوہر کو کم ہی مطمئن کر پاتی۔

پولیارن کے مضافات میں معدنیات کی کانیں واقع ہیں۔ لہٰذا وہاں روس بھر سے آئے ہوئے انجینئر، سائنسدان اور کارکن آتے اور عارضی قیام کرتے ہیں۔ جب انھیں چھٹیاں ہوں یا کوئی کام پڑے تو وہ واپس اپنے شہر چلے جاتے۔ چونکہ سٹاسلیف اور اکترینا کا وطن، ماسکو سے کئی سو میل دور تھا، لہٰذا مجبوراً انھیں جانے کے لیے ہوائی جہاز کا سہارا لینا پڑتا۔ پولیارن تا ماسکو دو تین جہاز اور ان کا عملہ ہی چکر لگاتا تھا، چنانچہ پائلٹوں اور فضائی میزبان وغیرہ کی مسافروں سے شناسائی ہونا لازم تھا۔

میاں بیوی پر ویسے بھی کڑا وقت آیا ہوا تھا۔ دراصل ایک ماہ پہلے اکترینا کا مرتی تبادلہ ہو گیا جو پولیارن سے ۵۰۰ کلومیٹر دور ہے۔ وہ محکمہ پولیس میں ملازمت کرتی تھی۔ تاہم اب سٹاسلیف چاہتا تھا کہ بیوی یہ ملازمت خیر باد کہہ کر اپنی ۵ سالہ بچی، کو سنبھالے۔ تاہم اکترینا نے اپنی پُر کشش نوکری چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ان دونوں کے مابین جھگڑا اتنا بڑھا کہ بچی کو ماسکو دادا دادی کے پاس بجھوانا پڑا تا کہ وہ ذہنی طور پر پریشان نہ ہو۔

ایک ہفتہ میاں بیوی کے مابین خاصا نزاع رہا اور توتکار بھی ہوئی، پھر فیصلہ ہوا کہ اکترینا ملازمت چھوڑ کر گھر سنبھالے گی۔ یہ فیصلہ ہوتے ہی حالات معمول پر آ گئے۔ اب دونوں مطمئن اور خوش میاں بیوی ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.