peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


motiyon ka haar - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.peperonity.net

〖 موتیوں کا ہار 〗

اسلامی کہانی


آج سے سات سو سال پہلے بغداد میں ایک بڑے پائے کے عالم رہائش پذیر تھے۔ اُن کا نام تھا قاضی ابو بکر بغدادی۔ وہ قاضی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایۂ محدث اور مقرر بھی تھے۔ دن کے وقت وہ عدالت میں مقدمات سنتے جبکہ رات کو قرآن و حدیث کے طلبہ کو تعلیم دیتے۔ یہ طلبہ نہایت کثیر تعداد میں تھے جن کے قیام و طعام کی ذمہ داری قاضی ابو بکر کے کندھوں پر تھی۔ وہ نہ صرف اِن طلبہ کو دو وقت کا کھانا مہیا فرماتے بلکہ ان کی رہائش کا بندوبست بھی ان کے ذمے تھا۔

ایک دن اُن کے شاگردوں نے اُن سے پوچھا’’حضرت! آپ کی تنخواہ تو معمولی ہے تو پھر یہ اتنے ڈھیر سارے اخراجات کہاں سے پورے کرتے ہیں؟‘‘
طلبہ کا سوال سن کر قاضی صاحب مسکرائے پھر کہا ’’یہ ایک راز ہے۔ اس راز پر سے پردہ تب تک نہیں اُٹھ سکتا جب تک کہ میں تمھیں اپنے ماضی کے چند عجیب و غریب واقعات نہ سنادوں۔اِس لیے بہتر ہے کہ فی الحال تم اِس راز کو راز ہی رہنے دو۔‘‘

شاگرد سمجھے کہ شاید اِس وقت اُن کا کچھ بتانے کا اِرادہ نہیں لہٰذاوہ چپ ہورہے۔ لیکن تھوڑے عرصے بعد شاگردوں نے ایک مرتبہ پھر عرض کی’’اُستادِ محترم! آپ نیک کاموں میں اس قدر خرچ کرتے ہیں۔ بظاہر آپ کی آمدنی کا بھی کوئی خاص ذریعہ نہیں، پھر یہ درہم و دینار آپ کے پاس کہاں سے آتے ہیں؟‘‘

اُستاد نے انھیں ایک مرتبہ پھر طرح دی اور مال کی نسبت اللہ تعالیٰ کے غیبی خزانوں کی طرف اشارہ کیا۔ لیکن اس بار شاگرد اس راز کو جاننے پر بضد تھے۔ شاگردوں کا اصرار دیکھتے ہوئے اُستاد نے بالآخر ان سے کہا ’’اِس مال کے ساتھ میری جوانی کا ایک نہایت اہم واقعہ وابستہ ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے انسان کو ایسے ایسے عجائبات دکھاتا ہے کہ اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔

لو سنو! یہ آج سے تیس بتیس سال پہلے کی بات ہے۔ میں اُن دنوں جوان تھا اور علمِ دین کے حصول میں ہمہ وقت مشغول رہتا۔ میرے ساتھ میرے چند دوست بھی تھے۔ ہماری دن رات کی مصروفیت یہی تھی کہ قرآن و حدیث پڑھتے اور باقی وقت تکرار یا مطالعے میں صرف کرتے۔ میں اُن دنوں یہیں بغداد میںمقیم تھا۔ شہر کے علمی حلقوں میں اُن دنوں مکہ معظمہ کے ایک عرب عالم کا بہت شہرہ تھا جن کا نام شیخ عبداللہ عزام تھا۔ وہ علمِ حدیث میں یکتائے روزگار ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.