peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


bahu ho to aisi - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.peperonity.net

❁ بہو ہو تو ایسی ❁

سماجی کہانی



’’بہو اے بہو… یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے اپنا… کبھی تھوڑا سنگھار بھی کر لیا کرو۔ لگتا ہی نہیں کہ چند دنوں کی دلھن ہو۔ ارے ہمارے زمانے میں تو لڑکی پورے دو ماہ دلھن ہی رہتی تھی۔ کام تو کرتی تھی مگر سجنا سنورنا نہ بھولتی اور ایک تم نرالی ہو جو اجڑا چمن بنی جھاڑو دے رہی ہو۔ کام سے کب روکا ہے ہم نے؟ بس ہم یہی کہتے ہیں، صبح اٹھتے ہی نماز پڑھ کرتیار ہو جائو اور پھر گھر کے کام کرتی پھرا کرو۔‘‘ قسمت آرا اپنی نئی نویلی اور سب سے چھوٹی بہو کو دیکھتے ہی تقریر کرنے لگی۔
بہو سیدھی سادھی تھی، خاموشی سے ساس کی باتیں سنتی جھاڑو دیتی رہی۔ آخر اثبات میں سرہلا کر ’’جی اچھا!‘‘ کہتی چلتی بنی۔ اچانک رکی اور ساس کے قریب آ کر دھیمے سے کہا ’’اماں چائے پی آپ نے؟‘‘
قسمت آرا کو تو موقع مل گیا دوبارہ تقریر کرنے کا‘ شروع ہو گئیں ’’کہاں بہو… کون ہے جو اس بڑھیا کا خیال کرے؟ سب اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں، کسی کو میری کیا پروا؟ اپنے تینوں بیٹوں کو میں اکیلی کھلاتی پلاتی تھی۔ اب وہ پوچھتے ہی نہیں، روز رٹا رٹایا سلام کرتے اور کہتے ہیں ’’اچھا اماں دیر ہو رہی ہے، دفترجا رہا ہوں… اماں تھکا ہوا ہوں، آرام کروں گا۔‘‘ تُو نئی ہے، اپنی بھاوجوں جیسی حرکتیں مت کرنا بلکہ انھیں بھی اپنے جیسا بنا لینا۔ جا، شاباش چائے لے آ۔‘
‘ عارفہ نے ’’جی اچھا‘‘ کہا اور باورچی خانے میں گھس گئی جو سب بھاوجوں کا مشترکہ تھا۔ وہاں پہنچتے ہی اس کا سر چکرا گیا۔ وہاں تو لگتا تھا زلزلہ آیا ہوا ہے۔ سمجھ ہی نہ آیا کہ چائے کیسے بنائے۔ باورچی خانے کی حالت دیکھ کر اسے چائے بنانے کی ترکیب ہی بھول گئی۔ گھر کا یہ حصہ جو سب سے زیادہ صاف ہونا چاہیے، لگتا تھا کچرا منڈی ہے۔ عارفہ نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ نہیں، نہیں، اسے بھاوجوں نے گندا نہیں کیا۔ شاید بچے آئے ہوں گے کچھ ڈھونڈھنے۔‘‘
وہ پھر چائے بنانے کے لیے کوئی برتن ڈھونڈنے لگی۔ جتنے بھی برتن نظر آئے سب جھوٹے تھے۔ جو صاف تھے، وہ بس نام ہی کے پاک نظر آئے۔ لال بیگ سیاست دانوں کی طرح اس باورچی خانے نما وطن کو لوٹنے میں مصروف تھے۔ مرتبان اور ڈبے رکھے تھے جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ ان پر کوئی ڈھکن تھا نہ ہی وہ درست جگہ پڑے تھے۔ اسے ایک چھوٹا فرائی پین نظر آیا جو اس نے فوراً اٹھا لیا اور رگڑ رگڑ ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.