peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


shatir chor - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.peperonity.net

╰_╯ شاطر چور ╰_╯

افسانے



ساہوکاروں کے ایک قصبے میں دو چور رہتے تھے۔ بڑے دھاڑی، جتھے والے‘ جس کو تاکا ننگا کر کے چھوڑا، جس گھر میں گھسے پوری صفائی کر دی‘ مگر جب لوٹا بھرپور اسامی کو! غریبوں کو کبھی نہیں ستایا، بلکہ امیروں کی دولت سے بیسیوں بیوائوں، سیکڑوں اندھے دھندوں کی ہمیشہ مدد کی۔ سفید پوش بھوکوں کا ان سے گزارہ چلتا تھا۔
اتفاق سے ان دونوں میں کچھ ان بن ہو گئی۔ ایک دوسرے کی گھات میں رہنے لگے۔ ہر پیشے میں ایک شرافت ہوتی ہے۔ دشمن ہو کر بھی وضعداری کا پاس رہا۔ خون کے پیاسے تھے، تاہم ایک دوسرے کی آبرو پر ہاتھ نہ ڈالا۔ پولیس نے اپنی اپنی جگہ دونوں کو گانٹھنا چاہا۔ کیا مجال ہے کہ کسی نے ساتھ دیا یا پرائی دوستی کو تیسرے ہاتھ سے قطع کرانے کی ٹھانی۔ یہاں تک کہ دونوں بوڑھے ہو کر خانہ نشین ہو گئے۔
جوانی کی کمائی پر عمر کے باقی دن کاٹنے لگے۔ ان دونوں کا ایک ایک لڑکا تھا۔ چوروں کے بیٹے سوداگر یا منشی تو ہونے سے رہے۔ مثل مشہور ہے کہ باپ پرپوت پتا پر گھوڑا ،بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔ ان کا بھی چوری ڈکیتی کی ہی باتوں میں جی لگتا۔ جب دیکھا کہ چوری کے سوا ان کی طبیعت کا لگائو کسی دوسری طرف نہیں تو خیال کیا کہ پھر بے استادے کیوں رہیں؟ دونوں اپنے اپنے لڑکے کو لے کر ایک پرانے استاد کے پاس پہنچے۔

چوروں کا گرو گھنٹال بستی کے باہر قبرستان میں تکیہ جمائے بیٹھا تھا۔ دور دور سے لوگ چوری کی گھاتیں سیکھنے آیا کرتے تھے، چناںچہ دونوں لڑکوں کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا گیا اور دونوں باقاعدہ شاگرد ہو گئے۔ چوری علم سینہ ہے، سفینے میں کہاں‘ پھر بے عمل علم کس کام کا؟ اس فن میں کمال پیدا کرنے کے لیے پورے پچیت استاد کی ضرورت ہے۔ اناڑی چور ہمیشہ مار کھاتے ہیں۔ دیوار پھاندنا، کونبل کرنا، تالے توڑنا آسان نہیں۔ چوری کہنے کو تو معمولی بات ہے لیکن اس کی نُدرتوں کو دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ یہ محض اُچکاپن نہیں، بڑا دلیرانہ و عاقلانہ ہنر ہے۔
کئی برس گز گئے اور دونوں لڑکے اچھے اچھے سورمائوں کے کان کاٹنے لگے۔ بڑی بڑی چوریوں میں شریک ہوئے۔ مسافروں کو خوب جُل دیے‘ مگر استاد کو ابھی پورا اطمینان نہ تھا۔ جب تک وہ ان کا الگ الگ امتحان نہ لے لیتا کیسے نیابت کی پگڑی باندھتا؟ اس لیے ایک دن دونوں ہونہار شاگردوں کو بلا کر کہا ’’چھورو! تم سیکھ تو سب ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.