peperonity.net
Welcome, guest. You are not logged in.
Log in or join for free!
 
Stay logged in
Forgot login details?

Login
Stay logged in

For free!
Get started!

Guestbook


nasseb - Newest pictures
a--------urdu.duniya.in.peperonity.net

⏛ نصیب ⏛

اردو ادب



رضیہ کی جوانی تو جیسے اپنے ابا کی موت کے انتظار میں تھی۔ کم سے کم اس کی ماں کو تو ایسا ہی محسوس ہوا۔ ماتم سے فارغ ہونے کے بعد جب ماں بیٹی نے بڑے کمرے کی دری لپیٹی اور اس کے حاشیے کے ساتھ ساتھ چاروں طرف بیبیوں کی تھوکوں کے داغ دھونے بیٹھیں، تو یکایک رئیسہ بیگم اپنی بیٹی کو دیکھتی رہ گئیں۔
اس وقت رضیہ نے ہفتے بھر کے چیکٹ کپڑے پہن رکھے تھے۔ لٹھے کی شلوار کے پائنچے بالکل سیاہ ہو رہے تھے۔ جمپر کا دامن صافی کی طرح میلا تھا اور بالوں نے اُجڑ کر مانگ کو غائب کر دیا تھا۔ وہ ایک دھجی بھگو بھگو کر دری کے حاشیے پر رگڑ رہی تھی۔ ہر رگڑ کے ساتھ اس کی آستین کہنی تک ہٹ جاتی۔ میلے ہاتھوں کے پیچھے اس کی کلائی کا صندل چمک چمک جاتا۔
رئیسہ بیگم کو سب سے پہلے انہی سڈول بازوئوں نے رضیہ کی طرف متوجہ کیا۔ وہ بھی پرلے کونے میں بھیگی ہوئی دھجی لیے بیٹھی تھی۔ جب پہلی بار رضیہ کے بازو کا کوندا لپکا، وہ ذرا سی چونکی اور پھر رضیہ کی طرف یوں دیکھنے لگی جیسے اسے نئے سرے سے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہے۔
’’اچھا تو رضیہ بیٹی یہ تم ہو!… یہ ہو تم… تمھاری جھکی ہوئی لانبی آنکھوں کے گوشوں میں سے یہ جگنو سے کیسے جھانک رہے ہیں! تمھارے بال ایک دم اتنے کیوں بڑھ آئے کہ فرش کو چھو رہے ہیں! یہ کیسے ننھے ننھے بھنور ہیں جو تمھارے گالوں میں بن بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ تمھارا جسم یوں بھرا بھرا سا کیوں لگتا ہے جیسے تم نے جمپر پہننے کے بجائے مڑھ رکھا ہے۔
’’ٹھیک ہے، اب تم سترہ سال کی ہو رہی ہو اور پڑوس میں سترہ سال کی عروسہ تین بچوں کی ماں بن چکی۔ مگر بیٹی! ابھی کل تک تو تم گڑیاں کھیل رہی تھیں! ہم تمھارے رشتے کے بارے میں یوں رواداری میں سوچتے تھے، جیسے ابھی تو چار برس پڑے ہیں۔ کوئی ڈھنگ کا رشتہ اس سے پہلے مل گیا، تو ٹھیک ورنہ ایسی جلدی کیا ہے! پر بیٹی، اب تو مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اگر مہینے دو مہینے کے اندر تمھارے ہاتھ پیلے نہ ہوئے، تو اپنی ہی آگ میں جھلس جائیں گے، یہ ایکاایکی تمھیں کیا ہو گیا رضیہ بیٹی!… لیکن جب باپ کی موت بیٹی کی جوانی کا انتظار نہیں کرتی، تو وہ باپ کی موت کیوں روکے؟ ‘‘


’’میرے نصیب!‘‘ رئیسہ بیگم ماتھے پر چٹاخ سے ہاتھ مار کر کر رونے لگی۔
رضیہ دھجی کو پھینک کر ماں کی طرف لپکی۔ بیٹی نے روتی ماں کو اپنے بازوئوں میں لیا اور پکار ...


This page:




Help/FAQ | Terms | Imprint
Home People Pictures Videos Sites Blogs Chat
Top
.